میرے گاؤں کے نفاست علی نے جی بھر کر چودا قسط 5

Posted on

وہ بھی سمجھ گیا کہ اب میری پھدی لوڑا لینا چاہتی ہے وہ میرے اوپر آ گیا اور اپنا لوڑا میری خوار پھدی پر رکھ دیا میں نے ہاتھ میں پکڑ کر اس کا لوڑا اپنی خوار پھدی کے منہ پر ٹكايا اور اندر کو کھینچااس نے بھی ایک دھکا مارا اور اس کا لوڑا میری خوار پھدی میں گھس گیا

میرے منہ سے آہ نکل گئی میری خوار پھدی میں میٹھا سا درد ہونے لگا اس نے میرے ہونتوں پہ اپنے لپس رکھ دیئےمیں لئے اور ایک اور دھکا مارا اس کا سارا لوڑا میری خوار پھدی میں اتر چکا تھامیرا درد بڑھ گیا تھا میں نے اس کی گانڈ کو زور سے دبا لیا تھا کہ وہ ابھی اور دھکے نہ مارے

جب میرا درد کم ہو گیا تو میں اپنی گانڈ ہلانے لگی وہ بھی لوڑا کو دھیرے دھیرے سے اندر باہر کرنے لگا کمرے میں میری اور اس کی سينكارے اور آهوں کی آواز گونج رہی تھی وہ مجھے بےدردي سے پیل رہا تھا اور میں بھی اس کے دھکوں کا جواب اپنی گانڈ اٹھا کے فل اٹھا کر دے رہی تھی

پھر اس نے مجھے گھوڑی بننے کے لئے کہا میں نے گھوڑی بن کر اپنا سر نیچے جھکا لیا اس نے میری خوار پھدی میں اپنا لوڑا ڈالا مجھے درد ہو رہا تھا مگر میں سہ گئی درد کم ہوتے ہی پھر سے دھکے زور زور سے چالو ہو گئے میں تو پہلے ہی ڈسچارج ہو چکی تھی

اب وہ بھی چھوٹنے والا تھا اس نے دھکے تیز کر دئے

اب تو مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے یہ آج میری خوار پھدی پھاڑ دے گا پھر ایک سیلاب آیا اور اسکا سارا مال میری خوار پھدی میں بہہ گیا میں نے سن رکھا تھا کہ پھدی کے اندر مال جائے تو حمل ہوتا ہے لیکن اس وقت اس نے جان بوجھ کے یا پھر بے خودی میں منی میری خوار پھدی کے اندر گرا دی تھی

وہ ویسے ہی میرے اوپر گر گیا میں بھی نیچے الٹی ہی لیٹ گئی اور وہ میرے اوپر لیٹ گیا میری خوار پھدی میں سے اس کا مال نکل رہا تھا پھر اس نے مجھے سیدھا کیا اور میری خوار پھدی چاٹ چاٹ کر صاف کر دی

ہم دونوں تھک چکے تھے اور بھوک بھی لگ چکی تھی اس نے کسی ہوٹل میں فون کیا اور کھانا گھر پر ہی مگوا لیا میں نے اپنے چھاتی اور خوار پھدی کو کپڑے سے صاف کئے اور اپنی بریزر اور پینٹی پہننے لگی اس نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا اور ایک گفٹ میرے ہاتھ میں تھما دیا

میں نے کھول کر دیکھا تو اس میں بہت ہی پیارا دلکش بریزر اور پینٹی تھی جو وہ میرے لئے لایا تھاپھر میں نے وہی بریزر اور پینٹی پہنی اور اپنے کپڑے پہن لیے تبھی بیل بجی وہ باہر گیا اور کھانا لے کر اندر آ گیا چاہتیں جب ملتی ہیں تو کتنا سکون ملتا ہے

زندگی کی مسرتیں اور کامیابیاں صرف اسی سے منسوب تھیں دل کی دھڑکن رک سی جاتی تھی جب کچھ دن اس سے بات نہ ہوتی تھی پیاروں کے سانچے میں اس نے مجھے کچھ ایسا ڈھال دیا تھا کہ اب میں کسی صورت بدل نہیں سکتی تھی میرے لپس پر مسکراہٹ اسی کے دم سے تھی میری آنکھوں میں آنسو نکلتے تھے تو صرف خوشی کے ملاقات کرتے تو دنیا کو بھول جاتے

میں نے اسکی خاطر والدین کو ٹھکرایا ان کی ناراضگی دور نہ کی مجھے اس بات کا خیال تک نہ آیا ایک دن کہتا کہ مل کر شہر گھومتے ہیں مگر ایسا کیسے کرتی کیونکہ مجھے اتنا وقت کون دیتا اتفاق سے ماموں بیمار ہو گئے ان کے بیٹے کی جاب تھی وہ فیملی ساتھ لے گئے تھے ماموں نے مجھے بلا لیا کہ مامی کے ساتھ کام میں ہاتھ بٹانا میری امی نے ابا سے اجازت لے کر مجھے ماموں کے گھر بھیج دیا وہاں ایک ماہ کے بعد مجھے پیریڈ نا آئے پہلے میں تھوڑا پریشان ہوئی تھی اور اب پندرہ دن مزید اوپر ہو چکے تھے

This content appeared first on new sex story .com

اور اب میری کئی عادتیں بدل گئی مجھے چائے کی خوشبو بری لگتی میرا لیمن اور مٹی کھناے کو دل کرنے لگا تھااور میرا برائے نام پیٹ اوپر ہونے لگا تھا ایک دن میں نے نفاست علی کو کال کی اور سب بتایا وہ ہنستے ہوئے بولا جانو تم ماں بننے والی ہوں خوشی کی خبر ہے اور اب وہ کھلتا گیااور کہنے لگا اپنی ماں کو بتا دو کہ تم حاملہ ہو چکی ہے

اور میراشتہ قبول کر لے اور تب اس نے دھماکہ خیز انکشاف بھی کر دیا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے اس کی بات سنتے ہوئے میں سمجھ گئی کس طرح اس نے مجھے حاملہ کیااور تاکہ میرا رشتہ مل سکے اور اب وہ سائیڈ پہ کھڑا تھا اس نے مجھے دھوکہ دیا تھا اس نے جان بوجھ کے مجھے حاملہ کیا تھا میں ایک ضدی لڑکی بھی تھی

جو ماں باپ کے سامنے نا جھکی تھی اب مجھے وہ زہر لگنے لگا تھا مجھے ا سکی چیٹنگ سے شدید نفرت اور دل میں کدورت آ چکی تھی وہ بلیک میلر نکلا تھا میں نے ایک رات میں کے ساتھ لپٹ کے رونا شروع کر دیا اور ماں نے بس ہولے سے مجھے کہا میری جان سب بتا دے مشکل میں پھنس گئی ہے نا اور میں نے بس ہاں میں سر ہلا دیا تھا

اگلے دن امی نے ابا کو کہا اس کی بہن کی اس کو یاد آ رہی ہے کچھ دن ان کے پاس جانا ہے مجھے ساتھ لیکر امی اس غریب بہن کے گھر چلی گئی اور سب کچھ ا سکو بتا دیا کہ اس کے ساتھ کیا پلان کیا گیا تھا وہ بہت اچھی خالہ تھی اس کے گھر میں ایک راز داری کے ساتھ میرا حمل ختم کرایا گیااور غریب خالہ نے میرا رشتہ اپنے بیٹے کے لیے مانگ لیا

اس کا بیٹا سکول ٹیچر تھا فراز اس کا نام تھا اور اب میں اس کی بیوی ہوں ہمارے دو بچے ہیں میں نے خدمت اور وفا کرنا شیوہ پھر بنا لیا ہے لیکن صرف اپنے شوہر کے لیئے شوہر جو بھی ہو لیکن اس کی غیرت کچھ نا کچھ ہوتی ہے مجھے نفاست علی نے بیچ چوراہے چھورااور شوہر نے سہارا دیا میری سب لڑکیوں سے گزارش ہے کہ جزبات میں نا جائیں زندگی کی سچائی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ختم شد

This story میرے گاؤں کے نفاست علی نے جی بھر کر چودا قسط 5 appeared first on dirtysextales.com