میرے گاؤں کے نفاست علی نے جی بھر کر چودا قسط 1

Posted on

میری کولیگ سعدیہ کی چھوٹی بہن نے اپنی سٹوری سنائی

دوستو میرا نام کومل ہے اور میرے والد کالج میں لیکچرر ہیں میں بدنانی اعتبار سے کافی خوبصورت رہی ہوں سمارٹ بدن پیارا فگر اور گورا رنگ کوئی بھی ایک نظر دیکھ لے تو دوبارہ دیکھنے کی خواہش اس کے دل میں ضرور جنم لیتی ہے جب ہوش سنبھالا تو گھر والوں کی شفقت میسر ہوئی کسی چیز کی خواہش ہوتی فورا خواہش پوری ہو جاتی بڑے گاوں کے پرائمری سکول میں داخل کروایا گیا۔

جب مڈل کلاس میں گئی تو مجھے بخار ہو گیا جو طول پکڑتا گیا اب میں گھر رہنےلگی تعلیم کا بہت شوق تھا اس لیے میں نے پرائیویٹ اپنی تعلیم جاری رکھی اور دسویں پاس کر لیا اور گھر کے کاموں میں مصروف ہو گئی تھی اس وقت تک میں پیار پیار کے نام سے بالکل ناواقف تھی مگر ان کی اصلیت کے بارے میں سوچا تک بھی نا تھا ہر دم اپنے کاموں میں مگن رھنا اور سکون سے زندگی بسر کرنا میرا کام تھا جب عزیزرشتہ داروں کے ہاں جاتی تو وہ سب مجھ سے اتنا پیار کرتے کہ جنت کا سماں نظر آتا۔

پھر ایک دن یوں ہوا کہ میں اپنے سیل جو ہمارے گھر کا تھا اس پر گانے پرانے سن رہی تھی کہ رانگ نمبر سے کال آئی میں نے اسے او کے نا کیا بلکہ مصروف کر دیا شاید اس کو شک ہو گیا کہ یہ نمبر کسی لڑکی کا نمبر ہے اور وہ بار بار تنگ کرنے لگا میں نے اس کوایس ایم ایس کیا کہ مہربانی فرمائیں یہ ہماری فیملی کا نمبر ہے وہ تو بس ڈھیٹ تھا بار بار ایس ایم ایس کرنے لگا کہ پلیز ایک بار کال پر بات کر لو۔

میں نے اس کے بے حد ضدپر کال او کے کر لی اور پوچھا کہ بتائیں آپ کا کیا مسئلہ ہے جناب وہ کہنے لگا کہ بس ایسے ہی دل کیا آپ سے بات کرنے کو اس طرح اس نے کال کٹ کر دی میں سوچوں میں پڑ گئی تھی کہ اب وہ روزانہ گڈ نائٹ گڈ مارننگ کے ایس ایم ایس کرتا۔

اب میرے دل کو پتہ نہیں کیا ہوا میں بھی اس سے بات کرنے لگ گئی وہ ہمارے گاؤں کا ہی نکلا اس کا نام نفاست علی تھا ہماری اچھی دوستی ہو گئی اب وہ کہتا کہ مجھ سے ملو مگر میں تو کبھی گھر سے باہر بالکل نہیں نکلی تھی کیسے ملتی گھر سے باہر جاتی تو میرے بھائی ہر پل میرے ساتھ ہوتے وہ ہمارے گھر کے سامنے آتا تو میں ونڈوسے اسے صرف دیکھتی وہ بہت خوبصورت تھا اتنا خوبصورت کہ میں اس کی شکل دیکھ کر پا گل ہو گئی تھی

اور اتنی پیار دل میں پیدا ہو گئی کہ میں اس کی دیوانی ہی ھو گئی ایک دن اس نے کہا کہ میں نزدیک سے آ پ کو بس دیکھنا چاہتا ہوں میں نے کہا ضد نہ کرو میں بہت مجبور ہوں وہ بہت رونے لگا میں نے امی سے کہا میں نےانکل کے گھر جانا ہے مگر امی نے اکیلے جانے نہیں دیا تھا امی نے کہا کہ کومل بیٹی کل میں آپ کو بھائی کے ساتھ بھیجوں گی

This content appeared first on new sex story .com

میں نے نفاست علی سے ایک دن کا وقت لیا وہ بہت خوش ہوا تھا لیکن دوسرے دن ابا نے جانے نہ دیا میں بہت پریشان ہوئی وہ بار بار ضد کر ہی رھا تھا تم مجھ سے پیار نہیں کرتی اب میں زہر کھا لوں گا مر جاونگا ابا سے میں نے کہا کے جانے دو مگر ابا نے کہا کہ وہاں کوئی شادی نہیں ہے جو اتنی ضد کر رہی ہو تم چپ کر کے اپنا کام کرو مجھے تنگ نہ کرو بچوں کی طرح ضد کرتے ہوئے شرم نہیں آتی

اتنی بڑی ہو گئی ہو کچھ تو خیال کرو جوان بیٹی کو ہی ادھر بھیج دوں کسی روز سب چلیں گے اور واپس آ جائیں گے میں کمرے میں جا کر بہت روتی رہی تھی میرا دل توپھٹ رھا تھا ابا کیا جانے مجھ پر کیا گزر رہی تھی میں نفاست علی کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی اور وہ میرے دل کی دھڑکن تھا میں اس کے بنا ایک پل اب نہیں رہ سکتی تھی

ایک دن میرے ابا کسی میٹنگ میں دوسرے شہر چلے گئے۔ (جاری ہے)

This story میرے گاؤں کے نفاست علی نے جی بھر کر چودا قسط 1 appeared first on dirtysextales.com